Karachi incident 357

‘کراچی واقعہ’(Karachi incident)

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ‘کراچی واقعے’ پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر ہونے والی انکوائری اور کارروائی کاخیرمقدم کرتے ہیں۔
کراچی واقعہ: بلاول کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کے حکم پر انکوائری ، ملوث افسروں کو ہٹا دیا، کاروائی ہوگی: آئی ایس پی آر، فیصلہ بلکل تھیک ہے.
گلگت بلتستان کے ضلع استور میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول کاکہنا تھاکہ ‘کراچی واقعے’ پر آرمی چیف سے انکوائری کامطالبہ کیا تھا،خوشخبری ملی ہےکہ انکوائری مکمل کرکے ایکشن بھی لیا گیا ہے۔
اسلام آباد (دیلی اردو) آئی ایس پی آر نے بتایا ہے واقعہ کراچی کے پس منظر میں آئی جی سندھ کی شکایات کے ازالے کیلئے چیف آف آرمی سٹاف کے حکم کے تحت قائم کورٹ آف انکوائری مکمل ہو چکی ہے جس کی سفارشات کی روشنی میں، اس واقعہ میں ملوث آئی ایس آئی سیکٹر ہیڈ کوارٹرز اور سندھ رینجرز کے افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جبکہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان افسران کے خلاف مزید کارروائی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں عمل میں لائی جائے گی۔
آئی ایس پی آر کی طرف سے اس ضمن میں جاری کئے گئے مفصل بیان میں بتایا گیا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کے حکم پر آئی جی سندھ کی شکایات کے حوالے سے فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل ہوگئی ہے۔ کورٹ آف انکوائری کی تحقیقات کے مطابق18 اور 19 اکتوبر کی درمیانی شب پاکستان رینجرز سندھ اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے افسران مزار قائد کی بے حرمتی کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں مصروف تھے۔
ان افسران پر بڑھتا ہوا عوامی دبائو تھا کہ اس معاملہ میں قانون کے مطابق فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ ان افسران نے شدید عوامی رد عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے مد نظر سندھ پولیس کے طرز عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سست روی کا شکار پایا۔
ان حالات میں مذکورہ افسران نے قدرے زیادہ جوش و خروش سے کارروائی کا فیصلہ کیا۔ یہ افسران یقیناً اتنے تجربہ کار تھے کہ وہ اس صورتحال میں زیادہ ہوش مندی کے ساتھ کارروائی کرتے تاکہ اس ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکتا جس سے ریاست کے دو اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ افسران کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان آفیسرز کے خلاف کارروائی جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں عمل میں لائی جائے گی۔

َِواقعے کا پسِ منظرَََِِ

واضح رہےکہ مزار قائد پر نعرے بازی کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو 19 اکتوبر کو کراچی کے نجی ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ پر دباؤ ڈالے جانے کی خبریں موصول ہوئی تھیں۔

واقعے کے بعد آئی جی سندھ سمیت صوبے کے تمام اعلیٰ افسران نے احتجاجاً چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور آرمی چیف سے نوٹس لینے کی اپیل کی تھی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی واقعے پر بلاول بھٹو زرداری کو ٹیلی فون کیا تھا اور تحقیقات کی یقین دہانی کرائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں