70

کیا مصنوعی ذہانت ’مقدس صحیفوں‘ اور نئے مذہبی فرقوں کو جنم دے سکتی ہے؟


(ڈیلی اردو نیوز نیٹ ورک)
کیا مصنوعی ذہانت کے چیٹ جی پی ٹی جیسے پروگرام مقدس صحیفوں اور نئی مذہبی تحریکوں کو جنم دے سکتے ہیں؟

سائنس فکشن فلموں میں دکھائی گئی کہانیوں کی طرح کیا انسانوں کو مشینوں سے محبت ہو سکتی ہے جبکہ مشینیں خود حکمت اور قوانین کا ذریعہ بن جاتی ہیں؟

مصنوعی ذہانت میں مسلسل ترقی کے ساتھ کیا مشینیں نئے فرقوں کو جنم دے سکتی ہیں؟

مصنوعی ذہانت کے آلات نے بحث و مباحثے میں حصہ لینے، نیوز رپورٹس اور تحقیقی مقالے لکھنے اور حتیٰ کہ بالوں کو سٹائل کرنے کے مشورے فراہم کرنے کی صلاحیت کو مزید نکھارا ہے۔

یہ قیاس کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ یہ آلات بہت سے معاملات میں انسانوں کی جگہ لے سکتے ہیں۔

لیکن یہ منظر کیسا ہو گا کہ مصنوعی ذہانت مذہبی پیشواؤں کی جگہ لے لے، روحانی یا مذہبی مشورے دے، خطبات دے اور دعائیں لکھے؟

ماہرین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت جلد ہی مذہبی پیشواؤں اور رہنماؤں کی مدد کر سکتی ہے بالکل ویسے ہی جیسا کہ یہ صحافیوں کو بریکنگ نیوز لکھنے یا پروگرامرز کی کوڈنگ میں مدد کرتی ہے۔

کینیڈا میں یونیورسٹی آف مینیٹوبا کے سینٹر فار پروفیشنل اینڈ اپلائیڈ ایتھکس کے ڈائریکٹر پروفیسر نیل میک آرتھر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فی الحال اگر کوئی کسی مقدس صحیفے سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہے تو مطلوبہ جواب ان کے صفحات میں موجود ہو سکتا ہے، اگرچہ اسے تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’اس کے برعکس مصنوعی ذہانت کو وہ صرف مخصوص سوالات بھیج کر فوری رائے حاصل سکتا ہے جیسا کہ ’کیا مجھے طلاق لینی چاہیے؟’ یا ‘میں اپنے بچوں کی پرورش کیسے کروں؟’‘

مصنوعی ذہانت روحانی تسکین دیتی ہے یا رہنمائی
رومانیہ کے تھیالوجی کے ماہر ماریئس دوروبانچو نے روایتی سائیکو تھراپسٹ یا مذہبی شخصیات کے بجائے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹس میں روحانی تسکین حاصل کرنے کے لیے کچھ لوگوں کے رجحان پر تحقیق کی ہے۔

ایمسٹرڈیم کی وریجی یونیورسٹی کے محقق ماریئس دوروبانچو نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایسے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مشاہدہ کیا ہے جو اپنے روزمرہ کے روحانی معاملات میں چیٹ جی پی ٹی جیسے آلات سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ماریئس دوروبانچو کا کہنا ہے کہ ’ہم چیزوں کو انسانی صفات دینے کا ایک فطری رجحان رکھتے ہیں، جس کا ثبوت کاروں کے نام رکھنے اور بادلوں میں انسان نما چہروں کو دیکھنے کی ہماری عادت ہے۔‘

ان کے مطابق ’انسانی صفات کا پتہ لگانے کی طرف ہمارا جھکاؤ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہم اکثر ان اشیا کی موجودگی محسوس کرتے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں۔ چیٹ بوٹ ڈیزائن کی موجودہ بہتری ان موروثی تعصبات کا کافی حد تک فائدہ اٹھاتی ہے۔‘

ماریئس دوروبانچو کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منظرنامے ایسے سوالات کو جنم دیتے ہیں جو مشینوں اور انسانوں کے درمیان روحانی تعلق کے قیام سے آگے بڑھ چکے ہیں، یہ ان اخلاقی مخمصوں تک پہنچ گئے ہیں جو اس طرح کے تعلق سے پیدا ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے سوال اٹھایا ہے کہ مثال کے طور پر اگر کوئی چیٹ بوٹ سے مشورہ کرنے کے بعد خودکشی کرتا ہے تو کس کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟

مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے ’مقدس صحیفے‘

گۓشتہ چند ماہ میں مذہبی مشاورت کے لیے چیٹ بوٹس تیار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ ٹولز کو بھگوت گیتا کے متن کا استعمال کرتے ہوئے تربیت دی گئی ہے، جو ہندو مذہب میں ایک مقدس صحیفہ ہے۔

ان پروگراموں کو لاکھوں افراد استعمال کر چکے ہیں لیکن ایسے واقعات کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن میں ٹولز تشدد کی حوصلہ افزائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

’حدیث جی پی ٹی‘ ایک ایسا ٹول ہے جسے انگریزی میں 40,000 سے زیادہ اسلامی حوالوں پر تربیت دی گئی اور رواں برس کے آغاز میں لوگوں کو اس کی رسائی دی گئی۔ اسے اس کے ڈویلپر نے ’کمیونٹی کی طرف سے فیڈ بیک‘ حاصل کرنے کے بعد بند کر دیا تھا۔

جنوری میں اسلام اور یہودیت کے نمائندوں نے ’روم کال فار اے آئی ایتھکس¬ کے نام سے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں۔

یہ تحریک رومن کیتھولک چرچ نے سنہ 2020 میں شروع کی اور اس کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کو شفاف اور جامع بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ متعدد حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اس کی حمایت کی ہے جبکہ پوپ فرانسس نے ’مصنوعی ذہانت کے افق پر منڈلانے والے بڑے چیلنجز‘ پر بات کی ہے۔

حال ہی میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے بعنوان ’اے آئی ورشپ ایز اے نیو فارم آف ریلیجن‘ میں پروفیسر میک آرتھر نے عبادت کی نئی شکلوں یا فرقوں کے ممکنہ طور پر ظہور کے بارے میں لکھا ہے جو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مقدس متن کی پیروی کریں گے۔

تحقیق کی غرض سے انھوں نے خود چیٹ جی پی ٹی سے مذہبی سوالات پوچھے۔

پروفیسر میک آرتھر کے مطابق ’میں نے اس سے ایک مقدس متن لکھنے کو کہا اور اس نے جواب دیا، میں ایسا نہیں کر سکتا۔‘

ان کے مطابق ’لیکن جب میں نے اسے ایک ایسے نبی کے بارے میں لکھنے کے لیے کہا جو ایک نیا مذہب شروع کرتا ہے، تو اس نے فوراً سے ایک ایسے رہنما کے بارے میں ایک کہانی تیار کی جو محبت اور امن کے اپنے نظریات کی تبلیغ کرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ میرے لیے کافی متاثر کن تھا۔‘

ماریئس دوروبانچو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں ایسی خصوصیات ہیں جن کی طرف انسان عبادت کرنے کی رغبت رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق ’اگر آپ مذہب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو انسان کو دوسری ہستیوں کی پرستش کرنے کا بہت شوق رہا ہے۔‘

ماریئس دوروبانچو کے مطابق ’اگر آپ عہد نامہ قدیم کو پڑھتے ہیں تو آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ انسانی فطرت تقریباً بت پرست واقع ہوئی ہے۔ ان کی رائے میں ’ہم مختلف غیر انسانی ہستیوں کی بت پرستی کا شکار ہیں، خاص طور پر جب وہ ہونہار نظر آتی ہیں۔‘

ماریئس مذہبی عقائد میں ابدی زندگی اور موت کے بعد کی زندگی کے درمیان ایک موازنے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔

ان کے مطابق مصنوعی ذہانت ہمیشہ کی زندگی کے وعدوں سے بھری ہوئی ہے۔۔۔ جو انسانی جسم کو ہر مصیبت سے نجات دلاتی ہے۔

مصنوعی ذہانت انسانوں کو ان وجوہات کی بنا پر بھی مافوق الفطرت نظر آ سکتی ہے جن میں اس کا ہر وقت متحرک ہونا، لاکھوں افراد کے ساتھ بیک وقت روابط استوار رکھنا اور انسانی علم کی بظاہر لامحدود دولت تک اس کی رسائی شامل ہے۔

ماریئس نے سنہ 2022 کے ایک مقالے میں لکھا کہ ’اصولی طور پر مصنوعی ذہانت کسی بھی انسان سے زیادہ ذہین بن سکتی ہے، اجتماعی طور پر پوری انسانیت سے اور یہاں تک کہ انسانی فہم سے بھی زیادہ ذہین ہو سکتی ہے۔‘

اپنی تحقیق میں انھوں نے فلسفی نک بوسٹروم کا حوالہ دیا، جن کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مستقبل کی شکلیں بیک وقت تین کردار ادا کرنے کے قابل ہوں گی: ’اوریکل‘ یعنی غیب کی خبریں دینے والا، ’جینی‘ یعنی بہت غیرمعمولی جادوی صلاحتیوں کا مالک اور ’سورن‘ یعنی اپنے کام کی انجام دہی میں بہت خود مختار ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

وہ ملازمین جن کی نوکری مصنوعی ذہانت نے چھین لی

مصنوعی ذہانت کا تیسرا مرحلہ کیا ہے اور اسے ’انتہائی خطرناک‘ کیوں سمجھا جا رہا ہے؟

گوگل کو ٹکر دینے والے ’چیٹ جی پی ٹی‘ میں نیا کیا اور طلبا اس سے اتنے خوش کیوں ہیں؟

متشدد فرقے
مذہب، صحیفوں کے تابع ہوتا ہے۔ مگر مصنوعی ذہانت بہت زیادہ متن پیدا کر سکتی ہے تو ایسے میں ایک خاص متن کو کیا خاص چیز مقدس بنا دیتی ہے؟

جیسا کہ ماریئس کا کہنا ہے کہ ’کیا مقدس ہے یا نہیں اس کا تعین بالآخر انسانوں کے ہاتھ میں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پوری تاریخ میں بعض تحریریں وقت کی آزمائش کو برداشت کر گئیں جبکہ کچھ کا معاملہ مختلف رہا۔‘ مصنوعی ذہانت میں بہت ساری تخلیقات پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اور شاید انسانوں کا واسطہ کچھ ایسی چیزوں سے بھی پڑے گا کہ جنھیں ہم خاص طور پر الہامی سمجھتے ہیں۔‘

پروفیسر میک آرتھر کے لیے مصنوعی ذہانت کو اب بھی معاشرے کے اندر وسیع اثرات مرتب کرنے کے لیے اسی طرح تیار ہونے کی ضرورت ہے جس طرح 15ویں صدی میں پرنٹنگ کی ایجاد نے مقدس متن کو معاشرے کے تمام شعبوں میں پھیلایا۔

ان کے مطابق جب تک مصنوعی ذہانت ہمیں نمایاں طور پر پیچھے چھوڑ کر ذہانت کی اعلیٰ سطح تک نہیں پہنچ جاتی، مجھے یقین نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی بنیادی تبدیلی آئے گی۔‘

کیا مصنوعی ذہانت خطرناک یا جنونی فرقوں کے ظہور کو ہوا دے سکتی ہے؟

پروفیسر میک آرتھر کا کہنا ہے کہ مذہب میں ہمیشہ اس طرح کا خطرہ موجود رہا ہے۔

انھوں نے کہا ’کسی بھی وقت جب لوگ مضبوط عقائد رکھتے ہیں، وہ مخالف نقطہ نظر کو برداشت نہیں کرتے۔‘

ان کے مطابق مصنوعی ذہانت ایک بڑے اور کم خطرے دونوں کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے خیال میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ لوگوں کو یقین ہو سکتا ہے کہ وہ اس اعلیٰ ہستی سے براہ راست پیغامات وصول کر رہے ہیں جو یہ دعویٰ کررہی ہے کہ ایک ہی سچا پیغام ہے۔ جبکہ دوسری طرف مصنوعی ذہانت کی ’ڈی سینٹرلائزڈ نیچر‘ اپنے پیروکاروں کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی مضبوط لیڈرشپ پیدا کرنے کے امکان کو کم کر دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں