19

پاکستان لائی گئی بینٹلے لندن سے چوری نہیں ہوئی، درآمد کی گئی تھی، ٹریبونل کا فیصلہ

کسٹمز اپیلٹ ٹربیونل کا کہنا ہے کہ کسٹمز کی جانب سے گزشتہ سال کراچی سے ضبط کی گئی بینٹلی ملسن کار اسمگل نہیں کی گئی تھی بلکہ اسلام آباد میں بلغاریہ کے سفیر کے نام پر درآمد کی گئی تھی۔

کسٹمز نے گزشتہ سال ستمبر میں کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے ایک گھر سے بینٹلی ملسن کار برآمد کی تھی۔

محکمے کے مطابق یہ کار برطانیہ سے چوری کی گئی تھی اور بعد ازاں اسے کراچی اسمگل کیا گیا تھا، جہاں یہ غیر قانونی طور پر سندھ کے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں رجسٹرڈ کرائی گئی تھی۔

کسٹمز نے ایف آئی آر درج کر کے گاڑی کے دعویدار جمیل شفیع اور نوید بلوانی کو گرفتار کیا۔

چیئرمین عارف خان اور عبدالباسط چوہدری پر مشتمل دو رکنی ٹربیونل نے منگل کو لگژری کار کے دعویدار کی طرف سے دائر اپیل پر اپنے فیصلے میں کہا، ’ہم سمجھتے ہیں کہ کسٹم ڈپارٹمنٹ نے دائرہ اختیار سے باہر غیر قانونی طور پر گاڑی کو ضبط کیا گیا ہے۔‘

ڈان نیوز کے مطابق ٹریبونل نے محکمے کو حکم دیا کہ وہ گاڑی بلغاریہ کے سفارت خانے یا وزارت خارجہ کے حوالے کرے۔

جمیل شفیع نے تحقیقات کے دوران دعویٰ کیا کہ گاڑی اسے بلوانی نے بیچی تھی، جس نے دستاویزات کے عمل اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

لیکن بلوانی نے کہا کہ انہوں نے صرف ایک ضامن کے طور پر شفیع اور نوید یامین کے درمیان ڈیل کرانے میں مدد کی تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یامین نے گاڑی کی ادائیگی کے طور پر جمیل شفیع سے نقد رقم اور پے آرڈر وصول کیے تھے۔

ٹربیونل نے اپنے حکم میں مشاہدہ کیا کہ یہ کار بلغاریہ کے سفارت خانے نے پاکستان میں اپنے سفیر کے نام پر درآمد کی تھی اور اسے 2019 میں وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے استثنیٰ کے سرٹیفکیٹ کے خلاف محکمہ کسٹمز نے کلیئر کیا تھا۔

ٹریبیونل نے کہا کہ کسٹمز کی جانب سے کار کی کلیئرنس کے حوالے سے کسی تضاد یا خلاف ورزی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔

ٹریبیونل نے کہا کہ چونکہ گاڑی برطانیہ سے چوری ہوئی تھی اور این سی اے اس کیس کی تحقیقات کر رہا ہے، ’ہمیں یہ ابتدائی طور پر انٹرپول کا ایک کیس معلوم ہوتا ہے، جس کی پاکستان میں نیشنل سنٹرل بیورو (این سی بی)، اسلام آباد کی طرف سے نمائندگی کی جاتی ہے‘۔

تریبیونل نے نوٹ کیا کہ این سی بی کو یہ کیس این سی اے کے ساتھ مل کر ہینڈل کرنا چاہیے تھا۔

ٹربیونل نے مزید کہا کہ ریکارڈ میں گاڑی کی ملکیت بلغاریہ کے سفارت خانے کے نام ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ سفارت خانہ گاڑی کو مسترد نہیں کر سکتا اور اگر گاڑی سفارت خانے سے چوری ہوئی ہے تو ایف آئی آر درج کرائی جائے یا سفارت خانے کی گاڑی ضائع کر دیا جائے۔

ٹربیونل نے مزید کہا کہ اگر بلغاریہ کے سفارت خانے نے چوری کے حوالے سے برطانوی ایجنسی کی رپورٹ کے بارے میں جاننے کے بعد گاڑی کو مسترد کر دیا تھا، تو گاڑی کو برطانوی حکام کے ساتھ مل کر مزید کارروائی کے لیے این سی بی کے حوالے کیا جانا چاہیے تھا۔

اس نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ وہ کار کو بلغاریہ کے سفارت خانے کے حوالے کر دیں کیونکہ یہ ”قانونی مالک“ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ’اگر سفارتخانہ کی جانب سے غیر قانونی گاڑی کو اپنے قبضے میں لینے سے انکار کیا جائے تو اسے تحریری طور پر درج کیا جائے گا اور گاڑی کو وزارت خارجہ کے حوالے کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ نیشنل کرائم ایجنسی (یو کے) کی رپورٹس کے ساتھ مزید ضروری کارروائی کی جائے گی۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں