84

نگران وزیراعظم کے نام پر حکمراں اتحاد میں سخت اختلافات سامنے آ گئے

اسلام آباد ( ڈیلی اردو نیوز نیٹ ورک ۔ 24 جولائی 2023ء) نگران وزیراعظم کے نام پر حکمراں اتحاد میں سخت اختلافات سامنے آئے ہیں۔اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ اسحاق ڈار کو بطور نگران وزیراعظم لانا چاہتی ہے تاہم حکمران اتحادی جماعتیں متفق نہیں۔پی ڈی ایم کی سربراہی کرنے والے مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے اسحاق ڈار کے نام کی مخالفت کر دی۔
ایم کیو ایم کو بھی تحفظات ہیں۔علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اسحاق ڈار کے نام پر اتفاق ہونے کی تردید کر دی ہے۔ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنانا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔جے یو آئی ف کے رہنما کامران مرتضیٰ نےکہا ہے کہ میرے علم میں نہیں کہ اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنایا جائے گا۔

اگر ایسا ہے تو ن لیگ کی تجویز آئین کے آرٹیکل 224 سے مطابقت نہیں رکھتی اور آئین میں جب تک یہ ترمیم ہے ہمیں اس کا احترام کرنا چاہئیے۔جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے نگراں سیٹ اپ میں وزیراعظم کے لیے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے نام پر اتفاق کی خبروں کی تردید کر دی۔پی پی رہنما فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پی پی کے ساتھ اسحاق ڈار کو نگراں وزیراعظم بنانے کیلئے گفتگو نہیں ہوئی،ن لیگ کی جانب سے پیپلز پارٹی کے ساتھ اسحاق کانام شیئر نہیں کیا گیا۔
ایسا نگراں وزیر خزانہ چاہئے جو آئی ایم ایف ڈیل آگے لے کر چلے۔ن لیگ کی خواہش ہے تو الگ بات لیکن نگراں وزیراعظم اتفاق رائے سے بنے گا۔جب کوئی نام آئے گا تب ہی اس پر بات کی جائے گی۔نگراں وزیراعظم کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق ہوگا۔ اسی طرح تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنانے کی سخت مخالفت کی۔انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنانا بڑا مذاق ہو گا،ایسے کسی فیصلے کو قبول نہیں کریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں