81

غیر قانونی طور پر مقیم افغان تارکین وطن کیخلاف آپریشن میں 8دن رہ گئے،سرکاری اداروں نے فہرستیں تیار کر لیں، زیرتعلیم افغان بچوں کا ڈیٹا بھی طلب

کراچی،لاہور ، شیخوپورہ(ڈیلی اردو نیوز نیٹ ورک) غیر قانونی طور پر مقیم افغان تارکین وطن کیخلاف آپریشن میں 8دن رہ گئے،سرکاری اداروں نےکراچی اور شیخوپورہ سمیت مختلف شہروں میں غیرقانونی طورپر مقیم غیرملکی باشندوں کی فہرستیں تیار کر لی ہیں ۔ڈی پورٹ کرنے کے انتظامات ہنگامی بنیادوں پر مکمل کئے جا رہے ہیں۔
سپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں 4 لاکھ جبکہ غیرسرکاری سروے کے مطابق سندھ بھر میں10 لاکھ سے زائد افغان تارکین وطن موجود ہیں ۔اڑھائی ہزار سے زائد افغان باشندوں کو کراچی ڈی پورٹ کیا جاچکا ہے۔ دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی خادم حسین رند نے انکشاف کیا ہے کہ شہر میں ڈکیتیوں میں زیادہ تر افغان باشندے ملوث ہیں جو اپنا خوف پھیلانے کے لیے دوران ڈکیتی لوگوں کو مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔کراچی پولیس چیف نے کہاکہ شہر میں دوران ڈکیتی گولی چلانے کا رواج افغان باشندے لائے ہیں۔رواں سال110 سے زائد افراد ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل ہوئے ۔محکمہ تعلیم سندھ سکولوں میں زیرتعلیم افغان بچوں کا ڈیٹا طلب کرلیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان میں افغان بچوں کی تعلیم تک رسائی کو درپیش چیلنجزکا جائزہ لینے کے لیے یکم نومبر کو میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ ڈائریکٹرکراچی ڈویژن نے ڈی ای اوز سے کہا کہ افغان بچوں کا کلاس اور سکول کے اعتبار سے ڈیٹا فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب پنجاب کے مختلف شہروں سے بھی ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے ، سرکاری اداروں نے ضلع شیخوپورہ میں غیرقانونی طورپر مقیم غیرملکی باشندوں کی فہرستیں تیار کر لی ہیں جن کی تعداد 250 سے زیادہ بتائی گئی ہے زیادہ تر افغان باشندے ہیں۔کوائف کے مطابق نادرا سے تصدیق کروائی جا رہی ہے ۔ ڈی پورٹ کرنے کے انتظامات ہنگامی بنیادوں پر مکمل کئے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں