63

بادام، اخروٹ، یا پستہ: صحت کیلئے مفید گری دار میوہ کونسا ہے؟


(ڈیلی اردو نیوز نیٹ ورک)
پروٹین سے بھرپور خشک میوہ جات کا استعمال صحت کے لیے نہایت اہم اور مفید قرار دیا جاتا ہے مگر ان میں سے صحت کے لیے سب سے مفید کونسا ہے؟ اس سے متعلق جاننا لازمی ہے۔

ماہرین کی جانب سے خشک میوہ جات کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے، عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران بھی ماہرین کی جانب سے خشک میوہ جات کے استعمال پر خصوصی زور دیا گیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خشک میوہ جات کے استعمال سے قوت مدافعت مضبوط اور متعدد بیماریوں سے پیشگی چھٹکارہ حاصل ہوتا ہے۔

خشک میوہ جات گوشت کے استعمال سے دور بھاگنے والے سبزی خوروں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، جو افراد گوشت نہیں کھاتے وہ میووں کے استعمال سے پروٹین حاصل کر سکتے ہیں۔

غذائی ماہرین کے مطابق خشک میوہ جات میں پھلوں، گوشت اور انڈوں کی برابر مقدار میں پروٹین تو نہیں پایا جاتا مگر ان سے حاصل ہونے والا پروٹین زیادہ مفید ہوتا ہے کیونکہ ان میں پائے جانے والے پروٹین میں کولیسٹرول اور سیچوریٹڈ فیٹس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین جانوروں کے بجائے پھلوں اور سبزیوں سے پروٹین حاصل کرنے کے لیے بھی تجویز کرتے ہیں۔

دوسری جانب ا گر بات کی جائے تو غذائیت میں سب سے بہتر مفید گری کون سی ہے تو جیسے تر پھلوں میں آم کو فوقیت حاصل ہے اسی طرح خشک میوہ جات میں بادام کو اعلیٰ مقام حاصل ہے۔

بادام میں پائی جانے والے غذائی اجزا:

بادام کو ڈرائی فروٹ یعنی خشک میوہ جات کا بادشاہ قرار دیا جاتا ہے، تقریباً 23 باداموں میں 164 کیلوریز، 14 گرام فیٹ، 6 گرام پروٹین، 6 گرام کاربز جبکہ 3.5 گرام فائبر پایا جاتا ہے۔

بادام سے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہیں خوب چبا چبا کر کھانا چاہیے، بادام نہار منہ کھانے سے ذہانت میں اضافہ اور کمر پتلی ہوتی ہے۔

بادام بھگو کر کھانے سے ان کی تاثیر ٹھنڈی ہو جاتی ہے، رات کو پانی میں باداموں کی 7 سے 9 گریاں بھگو کر رکھ دیں اور صبح نہار منہ کھا لیں، اس سے معدہ، آنکھیں اور دماغ تروتازہ رہتا ہے۔

اخروٹ

انسانی دماغی شکل سے مشابہت رکھنے والی گری اخروٹ میں وٹامن اور معدنی نمک پایا جاتا ہے جس سے ناصرف مسلز مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اس سے میٹابالزم بھی تیز ہوتا ہے۔

غذائی لحاظ سے 14 اخروٹ میں تقریباً 185 کیلوریز، 18.5 گرام فیٹ، 4 گرام پروٹین، 4 گرام کاربز جبکہ 1.9 گرام فائبر پایا جاتا ہے۔

اخروٹ مقدار میں کم کھانے چاہئیں کیونکہ اِن میں کیلوریز، کولیسٹرول زیادہ اور فائبر کم پایا جاتا ہے۔

یہ گلے میں خراش اور منہ میں چھالے بننے کا سبب بھی بن سکتا ہے، اخروٹ دن کے بجائے رات سونے سے قبل کھائیں، اخروٹ کھانے کے بعد چائے پینا نقصان دہ ہے ثابت ہو سکتا ہے۔

پستے

پستے کو خشک میوہ جات کا سبز ہیرہ کہا جاتا ہے۔

پستے بلاشبہ صحت بخش ہوتے ہیں جن میں دیگر خشک میوہ جات کے مقابلے میں پروٹین کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے جبکہ چربی اور کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔

غذائی اعتبار کے لحاظ سے 49 پستوں میں (چھلکوں والے پستے) تقریباً 159 کیلوریز، 12.8 گرام فیٹ، 6گرام پروٹین، 8گرام کاربز جبکہ 3 گرام فائبر پایا جاتا ہے۔

سادہ اور بغیر نمک کے پستوں میں پوٹاشیم اور فاسفورس کی بھی کافی مقدار موجود ہوتی ہے مگر سوڈیم (نمک) نہیں ہوتا جو کہ فشار خون کے شکار افراد کے لیے اچھی خبر ہے۔

درج بالا درجہ بندی کے لحاظ سے غذائی ماہرین روزانہ کی بنیاد پر بادام کھانا تجویز کرتے ہیں جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گریوں کو ملا کر کھا لیا جائے تو یہ عمل صحت کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں